سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا
خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا وہ جزیرہ جو سمندر سے نمودار ہوا میری تنہائی نے پیدا کیے سائے گھر میں کوئی دیوار کوئی در سے نمودار ہوا چاروں اطراف مرے آئنے رکھے گئے تھے میں ہی میں اپنے برابر سے نمودار ہوا آج کی رات گزاری ہے دیے نے مجھ میں آج کا دن مرے اندر سے نمودار ہوا کیا عجب نقش ہے وہ نقش جو اس دنیا کے کہیں اندر کہیں باہر سے نمودار ہوا ایک شعلے کی لپک نور میں ڈھل کر آئی ایک کردار بہتر سے نمودار ہوا حق کی پہچان ہوئی خلق کو آزرؔ اس وقت جب علی آپ کے بستر سے نمودار ہوا
تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم
تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم فرصت میں خدا نے جو بنایا، وہ کمال ہو تم دیکھوں تو ٹھہر جائے نظر، سانس بھی الجھے اک لمحۂ حیرت کا رکا ہوا خیال ہو تم آنکھوں میں اتر کر بھی مکمل نہیں ہوتے خوابوں میں سجے کوئی نادیدہ سوال ہو تم لفظوں میں سماؤ تو معانی بدلیں سب خاموشی میں ڈھلتا ہوا اک خیال ہو تم دل ہار کے بیٹھا ہوں زمانے کی گلی میں جیتے ہوئے ہارے کی بس اک ڈھال ہو تم چھو لوں تو بکھر جائے یقیں کی ساری دنیا دیکھوں تو حقیقت میں بھی رمزِ کمال ہو تم قمرؔ یہ تخیل ہے، سچ ہو کہ فسانہ جو عمر کے ساتھ قائم رہے، وہی جمال ہو تم