دلاور علی آزر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)

28 December 2025

14سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا

خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا وہ جزیرہ جو سمندر سے نمودار ہوا میری تنہائی نے پیدا کیے سائے گھر میں کوئی دیوار کوئی در سے نمودار ہوا چاروں اطراف مرے آئنے رکھے گئے تھے میں ہی میں اپنے برابر سے نمودار ہوا آج کی رات گزاری ہے دیے نے مجھ میں آج کا دن مرے اندر سے نمودار ہوا کیا عجب نقش ہے وہ نقش جو اس دنیا کے کہیں اندر کہیں باہر سے نمودار ہوا ایک شعلے کی لپک نور میں ڈھل کر آئی ایک کردار بہتر سے نمودار ہوا حق کی پہچان ہوئی خلق کو آزرؔ اس وقت جب علی آپ کے بستر سے نمودار ہوا

— دلاور علی آزر

تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم

تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم فرصت میں خدا نے جو بنایا، وہ کمال ہو تم دیکھوں تو ٹھہر جائے نظر، سانس بھی الجھے اک لمحۂ حیرت کا رکا ہوا خیال ہو تم آنکھوں میں اتر کر بھی مکمل نہیں ہوتے خوابوں میں سجے کوئی نادیدہ سوال ہو تم لفظوں میں سماؤ تو معانی بدلیں سب خاموشی میں ڈھلتا ہوا اک خیال ہو تم دل ہار کے بیٹھا ہوں زمانے کی گلی میں جیتے ہوئے ہارے کی بس اک ڈھال ہو تم چھو لوں تو بکھر جائے یقیں کی ساری دنیا دیکھوں تو حقیقت میں بھی رمزِ کمال ہو تم قمرؔ یہ تخیل ہے، سچ ہو کہ فسانہ جو عمر کے ساتھ قائم رہے، وہی جمال ہو تم

— راجا اکرام قمر